Monday, 27 April 2015

زکاوتِ حس



                    زکاوتِ حس                      


زکاوت حس تمام جنسی بیماریوں اور ذہنی خرابیوں کی بنیاد ہے اس سے مراد انسان کی وہ کیفیت ہے جب ہر وقت انسان کے ذہن میں جنسی خیالات چھائے رہیں۔ اس بیماری میں جنسی اعضاء کی حس بڑھ جاتی ہے۔غدہ مذی میں خراش کی وجہ سے بار بار تحریک ہو کر جلد شہوت آ جاتی ہے لیکن جلد ہی ختم بھی ہو جاتی ہے۔ یہ مرض جنسی غلط کاریوں کا نتیجہ ہے آج ہمارے معاشرہ میں نوجوانوں میں پایا جانے والا سب سے زیادہ عام اور خطرناک مرض یہی ہے۔
ایک نوجوان جب کسی قسم کی جنسی فلم یا تصویر دیکھتا ہےیا جنسی لٹریچر پڑھتا ہےحتیٰ کہ آج کل ٹیلی ویژن پر چلنے والے مختلف اشتہارات بھی اس قسم کے ہوتے ہیں جنہیں دیکھتے ہی اس کی جنسی حس بھڑک اُٹھتی ہے اور دل و دماغ پر چھا جاتی ہے ۔پھر وہ اپنی جنسی آگ بجھانے کے لیے مختلف طریقے اپناتا ہے۔ جتنے طریقے اپناتا ہے یہ آگ اتنی ہی زیادہ بھڑکتی ہے۔
یہ مرض عام طور پر جنسی اعضاء کی عصبی کمزوری کی بناء پر لاحق ہوتا ہے۔ جنسی و عصبی کمزوری کے اسباب ہی اس مرض کا سبب بنتے ہیں مثال کے طور پر مشت زنی،کثرت شہوت و جریان، اور صعف باہ کے دیگر اسباب جو شدید جنسی خواہشات کی وجہ سے ہوں۔

               علامات:               

جنسی اعضاء میں کمزوری
معمولی سی رگڑ یا تحریک سے عضو میں ہیجانی کیفیت۔
مریض کا تنہائی پسند ہونا۔
سر چکرانا
جلد غصہ آ جانا اور چڑ چڑا پن
دل کمزور ہونا
طبیعت خراب رہنا اور ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں مبتلا رہنا
سستی و کاہلی
مردانہ کمزوری
پیشاب کا بار بار آنا
اعصابی کمزوری
عضو کی جلد کا نازک اور پتلا ہونا
مادہ منویہ کا پتلا ہونا

Friday, 27 February 2015

Introduction Sami Health Clinic

تعارف
نوجوان ہی کسی قوم کا ہر اول دستہ اور امیدوں کا مرکز ہوا کرتے ہیں۔ جس قوم کی نوجوان نسل کے اخلاق و کردار تباہ ہو جائیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہے۔
کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کے نوجوانوں کے اخلاق و کردار تباہ کر دواور انہیں گمراہی اور عیش و عشرت کے راستے پر لگا دو۔ وہ قوم خود بخود تباہی و بربادی کے گڑھے میں جا گرے گی۔آج یہی چال اُمتِ مسلمہ کے ساتھ چلی جا رہی ہے۔کہ اس قوم کے نوجوانوں کو فحاشی و عریانی کے دلدل میں پھنسا کر ان کی غیرت ختم کرنے کے لیے غیر مسلم میڈیا دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔اور وہ اس مشن میں اس قدر کامیاب ہیں کہ ہماری سادہ عوام اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بلیو پرنٹ فلموں ، عریاں تصویروں اور فحش لٹریچرز کا وہ سیلاب اُمڈ آیا ہے کہ اسے روکنے کےلیے ہماری حکومت (دانستہ یا غیر دانستہ) بھی بے بس ہے ہر شہر میں سینما گھروں ، ویڈیو سنٹروں کیبل ٹی وی نیٹورک، ڈش انٹینا،اور اب انٹرنیٹ میں ہماری نوجوان نسل کے کردار کی تباہی کا مکمل سامان موجود ہے۔
فحش لٹریچر اور عریاں تصویریں جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے سر گرم عمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ہم مختلف خبریں سنتے ہیں جن میں زنا، اغواء، گینگ ریپ وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔اور ہمارے ملک میں جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
حالت یہ ہے کہ جنسی جذبات سے مغلوب یہ نوجوان نسل اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ایک طرف اخلاقی گناہوں کی تلاش میں ہے تو دوسری طرف صحت کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ روحانی اور جسمانی طور پر یہ بیمار نوجوان نسل اُمتِ مسلمہ کی اُمیدوں کا مرکز کیسے بن سکتی ہے؟
اس قوم کے نوجوان تو مُحمدبن قاسم، طارق بن زیاد، اور خالد بن ولید ہوا کرتے تھے لیکن آج اخلاق و کردار سے تباہ یہ قوم زوال پذیر اور پستیوں میں ڈوبی پڑی ہے۔ان حالات میں اس قوم کو بچانے کی ذمہ داری کا فریضہ میں اپنے اندر بھی محسوس کرتاہوں۔اسی فریضے کی تکمیل کے لیے میں آج اُن سب نوجوانوں کے لیے یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں جس میں تمام نوجوانوں کو بالکل دوستانہ ماحول میں اپنے مسائل اور اُن کا علاج بھی کیا جائے گا۔جو کثیر تعداد میں جسمانی بیماریوں میں ملوث ہو کر اپنا مستقبل تاریک کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
اس بات کا اندازہ مجھے کلینک بنانے کے بعد ہوا جب نوجوانوں کی اکثریت جنسی بیماریوں میں ملوث ہو کر علاج کی غرض سے میرے پاس آنے لگی۔ اور اُن میں کئی ایسے نوجوان بھی ہیں جو بہت سے عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں ، سنیاسی باووں اور اشتہاری کلینکوں کے ہاتھوں اپنی صحت اور پیسہ دونوں تباہ کر چکے ہیں۔
میری نظر میں سے اب تک جتنی بھی کتابیں اور انٹرنیٹ پر مواد گزرا اُس میں یا تو بہت سا مواد اتنا طویل اور مشکل ہے کہ انہیں سمجھنا ہر نوجوان کےبس کی بات نہیں صرف ڈاکٹر ہی اس سے مُستفید ہو سکتا ہے۔ یا پھر اُن دوا ساز اداروں کی طرف سے چھپی ہوتی ہیں جنہیں صرف اپنی دوائیاں ہی بیچنا مقصود ہوتا ہے۔
انشاء اللہ میری کوشش ہے کہ میں تمام نوجوانوں کے لیے انتہائی مختصر اور سادہ الفاظ میں نوجوانوں کی جنسی بیماریوں کی نشاندہی کروں جسے ہر نوجوان با آسانی پڑھ اور سمجھ سکے۔میں نا چیز اس قابل تو نہیں کہ نوجوانوں کےان مسائل پر کچھ لکھوں لیکن نوجوانوں کو تباہی کے کنارے کھڑے دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور صرف اور صرف اسے اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوئے قوم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔میرے اس مشن میں مجھے آپ سب کا ساتھ اور دُعاوں کی ضرورت ہے میں سمجھتا ہوں کہ میری ان باتوں کو پڑھ کر اور ان پر عمل کر کے ایک بھی نوجوان راہ راست پر آ گیا اور صحت مند ذہن اور جسم کے ساتھ ملت کی خدمت میں مگن ہو گیا توآخرت میں میری نجات کے لیے کافی ہو گا۔

                                                                                                                                            الیکٹرو ہومیو ڈاکٹر سمیع اللہ
                                                                        سمیع ہیلتھ کلینک 
دُکان نمبر 52 نزد رحمت میرج گارڈن لبرٹی مارکیٹ نارووال